رات
شو
کی کماں چلے جا رہے ہو؟" لڑکی نے پوچھا۔ میں بھی نہیں وہ خوش دلی سے بولا۔
بھی آہستہ چلو وہ بولی : میں تھک گئی ہوں۔"
بہت اچھا۔" دونوں خاموشی سے
چلتے رہے۔
شوکت۔“ وہ پھر بولی : ”خدا کے لیے »
کہاں جارہے ہو؟" ” چلے پن کی
چا ۲۳ آل۔ وہ گا کر بولا۔ شو کی چپ رہو۔“ وہ
کیسے بولی: ”لوگ سن رہے ہیں۔ جنگ میں چلے پون کی چا آل ل۔“ وہ گاتا رہا۔ رفتہ رفتہ
وہ بہت پیچھے رہ
پھر ایک جگہ پر اچانک رک کر وہ ادھر
ادھر دیکھنے لگا۔ پاؤں میں الجھتی ہوئی ساری کو دو انگلیوں میں تھے وہ ہانپتی ہوئی
اس کے پاس آ کر رک گئی۔ اس کی ناک کی پچھننگ پر پینے کے قطرے چمک رہے تھے۔
چلو
اب گھر چلیں۔" وہ بولی۔
اس نے مڑ کر غور سے اس لڑکی کو
دیکھا جیسے اسے بچانے کی کوشش کر رہا ہو۔
چلو گھر چلیں۔" وہ سانس روک کر
بولی۔
چلو۔" وہ جیبوں میں ہاتھ ڈال
کر پر چلنے لگا۔
لیکن ان کا فلیٹ پیچھے کی طرف تھا
اور وہ آگے کو جا رہے تھے۔ اسی لیے جب وہ بولی تھی : "چلو گھر چلیں تو اس کی
آواز میں ایک انجانے خوف کی لرزش تھی۔ اس لیے کہ وہ یہ جانتی تھی کہ وہ کہاں جا
رہے ہیں۔ وہ اتنے عرصے سے اس کی بیوی تھی؟
اب یہ اس عظیم الشان ساحلی شہر کا
سب سے بڑا بازار تھا جسے وہ پار کر رہے تھے۔ پھر وہ اسے پار کرنے کے بجائے اس کے
تکوں چلے گئے۔ وہ بازار میں چلے جا رہے تھے اور رو رویہ بجلی کی ٹیویوں کی دو وميا
سفید ہلکے ابر آلوو
آسمان کی کی روشنی تھی اور دکانیں
اور شوکیس جگمگا رہے تھے اور رکشا اور موٹریں اور گدھے اور ہر طرح کے لوگ ان کے
ساتھ ساتھ بازار کے کتوں پچ چل رہے تھے۔ اگلے چوک تک پہنچتے پنچے اس نے ایک آخری
کوشش کی:
"شوکی" وہ بولی ابھی تو
چائے پی کر چلے ہیں۔" مجھے بھوک لگی ہے۔" اس نے گند آواز میں کہا۔ لڈو
گھر میں اکیلا ہے۔" مجھے بھوک لگی ہے۔ اس نے کہا۔
چوک کو پار کر کے وہ دل کشا ہوٹل
میں داخل ہوئے اور اپنی مخصوص میز پر پہنچ کر آمنے سامنے بیٹھ گئے۔
شوگی" وہ بولی: " میری
بات سنو۔"
اس
نے سر اٹھا کر غور سے اپنی بیوی کو دیکھا۔
چلو“ وہ بولی ”پانی پی کر چلتے ہیں۔
"چلو“ اس نے کہا اور میٹو پر جھک گیا۔
یا بس چائے پی کر لڑکی نے دوبارہ
بات شروع کی مگراسی دم اس کا وہ انجانا خوف جس کے باعث کچھ دیر قبل اس کی آواز
کرتی تھی اور جو بار بار اس کے حلق میں آکر اٹک جاتا تھا یکسر غائب ہو گیا اور اس
کی جگہ اتنی ہی قدیم اور اتنی ہی مانوس بد مزگی اور شدید مایوسی نے لے لی۔ (بہت
بعد میں جا
کر ایک دفعہ اس کو پتا چلا کہ یہ
انجانا خوف اس شخص کا نہیں اس جذبے کا تھا۔ اس موڈ سے اس کی آشنائی چلے ایک برس سے
تھی جب سے کہ اس
کے خاوند کا تیل شروع ہوا تھا مگر
پرسک بھر میں ہی اس نے ایک قدیم اور بھرپور جذبے کی شکل اختیار کرلی تھی جس سے کہ
اب وہ زندہ رہنے کی قوت حاصل کر رہی تھی۔ وہ آزردگی جو ہوتے ہوتے ضد بن گئی تھی
اور اب اسے سکون بخشے گئی تھی، جیسے کہ سارے ہٹ دھرم جذبے اپنی اس خصوصیت کے طفیل
کیا نہ کسی حد تک سکون بخش ہوتے ہیں۔
کیا کھاؤ گی؟“ اس نے مینو سے سر
اٹھا کر پوچھا۔
کچھ بھی نہیں ؟" وہ آنکھیں نچا
کر بولا: ” کچھ نہ کچھ تو کھاؤ میری جان۔
وہ دوسری طرف دیکھتی رہی۔ صرف اس کے
ہونٹ بھی گئے اور آنکھوں میں سختی آگئی۔ چند میزیں چھوڑ کر ایک نو عمر لڑکا جو
انہیں ریستوران میں داخل ہوتے دیکھ کر اپنی کرسی سے تھوڑا سا اٹھ کر پر بیٹھ گیا
تھا پر جوش لہجے میں اپنے ساتھی سے باتیں کر رہا تھا۔ لیکن وہ ابھی بست نو عمر تھا
اور شاد پہلی بار اتنی خوبصورت لڑکی کو الی بیباکی سے اپنی طرف دیکھتے ہوئے پا کر
سنتا
اٹھا
تھا اور اس سے آنکھ ملاتا ہوا گھبرا رہا تھا۔ اس چہرہ سرخ کے زور زور سے باتیں کیے
جا رہا تھا اور بار بار کری کو گھسیٹ رہا تھا اور ہر حال اتنے فاصلے پر بیٹا تھا
کہ اس کی آنکھوں کی کشیدگی کو دیکھ نہ سکتا تھا۔
زرو سیٹ بھی گیا۔ وہ بولی:”زرد چینی
کا سیٹ۔" کس قدر افسوس کی بات ہے۔ وہ بڑے بڑے نوالے لیتا ہوا بولا :"تھے
پہلی چیز جو ہم نے خریدی تھی کے بعد۔
وہ اپنے آپ سے بولی: "شادی
تم پیٹ بھر کر کھاؤ شو کی۔ وہ بوی:
"تمہیں اس سے کیا؟ تو کیا بھوکا مر جاؤں؟" و غرایا۔
نہیں وہ پہلی بار اس سے آنکھ ملا کر
بولی: " پیٹ بھر کر کھاؤ۔"
وہ دوبارہ کھانے پر چل پڑا۔ اس کی
لی لی نازک انگلیوں کو سالن میں تھے اور بڑے بڑے لقموں کو بنتے اور بگڑتے اور اس
کے اپوترے سرد اور لا تعلق جوڑے کو تیزی سے کام کرتے ہوئے دیکھ کر وہ بد دلی سے
بولی:” کچھ تو تمیز سے کھاؤ شوکی۔"
ی آزاد ملک ہے۔ اس نے جواب دیا : ہم
آزاد ملک کے باشندے ہیں۔ اور کھاتا رہا۔
لڑکی کی آنکھیں سکڑیں، پر پھیلیں،
پھر ان میں وہی کراچی کی سی تختی آگئی اور وہ دوبارہ منہ پھیر کر نو عمر لڑکے کی
طرف دیکھنے لگی۔
آخر وہ سالن بھری انگلیوں کو نیکی
سے پوچھ کر کری کی پشت کے ساتھ سیدھا ہو بیٹھا۔ اس کی بیوی نے سفید کھدر کے براق
دحلے ہوئے‘ پر مر کے
ہوئے
خالی پلیٹ میں پڑے نپکن کو دیکھا اور اسی ضدی نظروں سے اس پر پھیلے ہونے کے لیے
میلے سرخ اور زرد نشانوں کو دیکھتی رہی۔
پر اس کا ہاتھ اپنی طرف بڑھتے ہوئے
دیکھ کر وہ گود میں پڑے ہوئے پرسی کو مضبوطی سے پکڑ کر بیٹھ گئی۔ کچھ دیر تک وہ
سیاہ پڑے کے اس کے سے پریس کو اپنی اپنی طرف کھپے رہے۔ پھر وہ بھنے ہوئے ہونٹوں کو
نیم وا کر کے وانوں کے ج سے پچکاری
میں ہوں گی۔
وہ آہستہ سے ہا: ”اچھا۔ اس نے کہا :
تم ہی وو۔ اور ہاتھ کھینچ کر کری کی پشت سے لگ کر بیٹھ گیا اور سامنے اس لڑکے کو
دیکھنے لگا۔ لڑکی نے مٹھی بھر ریز گاری پرس میں سے نکالی اور پیسے گن کر بل ادا
کیا۔ بیرا خاطر خواہ شپ نہ ملنے پر اکڑا اکڑا میز صاف کرنے لگا۔ وہ جلدی سے اٹھ
کھڑی ہوئی : "چلو۔" وہ بولی۔
دونوں آگے پیچھے چلتے باہر نکل آئے۔
انہیں جاتے ہوئے دیکھ کر تو عمر لڑکا باتیں بند کر کے زرا سا کرسی سے اٹھا کر بیٹھ
گیا اور اداس نظروں سے اس وقت تک انہیں دیکھتا رہا جب تک کہ وہ آنکھوں سے اوجھل نہ
ہو گئے۔ باہر فٹ پاتھ اور بازار میں برقی نیویوں کی روحیا سفید کے ابر آلور آسمان
کی کی روشنی تھی اور ستمبر کا موسم تھا اور بھاری نمدار سمندری ہوا مگر ان کے
چہروں سے ٹکرا رہی تھی۔ چاروں طرف انسانوں اور گدھوں اور گاڑیوں کا ہجوم اسی طرح
رواں تھا۔ وو پتا چلا جا کر بس سٹاپ پر رک گیا۔
"چلو"۔ وہ بولی۔
وہ
پتلون کی جیبوں میں ہاتھ دے کر ہونٹوں سے سیٹی بجانے اور ادھر ادھر دیکھنے لگا۔
شوکی“ وزرا نرمی سے بولی:
"پیدل چلتے ہیں۔" ہیں تھک گیا ہوں۔" لڑکی نے لمبا سانس چھوڑا :
اچھا وہ بولی " بس میں سوؤ گے تو نہیں؟"
تھوڑی دیر کے بعد دو منزلہ اس کو
آتے دیکھ کر وہ بچوں کی طرح خوش ہو گئے۔ وہ اس کے آگے آگے اچھل اچھل کر سیڑھیاں
چڑھتی ہوئی اوپر کی منزل میں جا کر سب سے آگے والی سیٹ پر بیٹھ گئی۔ اس کی دوسری منزل
پر سفر کرنا ان دونوں کو بید بھاتا تھا۔ پہلے پہل جب ان کی شادی ہوئی تھی اور اپنے
پیارے پرانے شہر کی ساری جبکہیں چپے پر پیدل چل کر گھوم چکے تو پس کد خرید کر اس
کی دوسری منزل میں آگے والی سیٹ پر بیٹھے شہر بھر کی سیر کیا کرتے تھے بریار میں۔
پھر وہ اپنے شہر کو چھوڑ کر اس شہر میں آگئے جہاں دو منزلہ بسیں بہت کم تھیں اور
صرف چند ایک خاص خاص راستوں پر چلتی تھیں۔
”اب تم اڑ رہے ہیں۔ وہ خوشی سے
بولی۔ ”ہاں“ اس نے بھی کہا : ”اب ہم اڑ رہے ہیں۔"
اب وہ بڑے بازار سے نکل کر ایک بازو
کی سڑک پر جا رہے تھے جہاں پر کہ زیادہ تر دکانیں بند ہو چکی تھیں یا ہو رہی تھیں
اور دو رویہ تاریکی میں گئے اکا وکا کھلی دکانوں کے روشن پیوند پیچھے کی طرف اڑتے
جا رہے تھے۔ فٹ پاتھ اور سڑک پر لگائی روشنی میں فاصلے کا احساس بڑھ گیا تھا اور
ان دونوں کے چہرے جو پرانے وقتوں کی رہی سہی خوشی سے پی کے پل کو جگمگا اٹھے تھے
اوپر بس کی روشن کھڑکی میں جڑے دور نیچے سائیکل سواروں اور رکشاؤں اور پیل
چلنے
والوں کو پیچھے کی طرف اڑتا ہوا دیکھ رہے تھے۔
و کمت؟ کنڈکٹر نے پوچھا۔
جب وہ ٹکٹ کے پیسے نکال رہی تھی تو
شوکت نے جھک کر اس کے پر میں نظر ڈالی اور مکاری سے مسکرایا۔ جب کنڈ کر چلا گیا تو
وہ بولی :
پتا ہے یہ کہاں سے آئے ہیں؟"
زرد پانی کا سیٹ "
اس
کے پیسے تو ابھی
ملے ہی نہیں۔
سرخ ساری کے ہیں۔ کون سی والی؟ | جو
پارسال عید پر تم نے دی تھی۔
بس ایک رپکے سے ٹاپ پر رک گئی۔
انہوں نے اپنے پاؤں کے قریب کی طایلی میں سے دیکھا کہ ڈرائیور نے ابن صفی کا ناول
پلٹ کر وہاں سے پڑھتا شروع کر دیا۔ چناں چلے ٹاپ پر اس نے چھوڑا تھا۔ چند لوگ اوپر
آئے اور ادھر ادھر بیٹھ گئے۔ ڈرائیور نے ناول الٹا کر کے سٹیرنگ کے پاس رکھا اور
بس پھر روانہ ہوئی۔
یہ ساری۔“ اس نے ہاتھ بڑھا کر سبز
رنگ کی مین رمیٹی ساری کو چھوا : میں نے ڈیڑھ سو میں خریدی تھی۔
شو کی اس کی آنکھوں کی کانچ کی سی
تی آن کی آن میں غائب ہو گئی اور وہ اس کی طرف جھک کر جذباتی لہجے میں بولی :
"بی اکلوتا تحفہ ہے جو شادی
سے
پہلے تم نے مجھے دیا تھا۔
میں چھ ماہ تک اس کے لیے پیسے جمع
کرتا رہا تھا۔ اس نے کها : گر سے خرچ اتنا کم ملتا تھا۔
اور یہ سب سے پہلا تحفہ ہے جو تم نے
مجھے دیا تھا۔ یار ہے؟؟
تمہیں سبز رنگ کھانا تھا۔
”اور تمہیں چھوٹے چھوٹے تھے دینے سے
ای شرم آتی تھی۔ وہ آہستہ سے پسی: "تم مجھے کوئی قیمتی تحفہ دینا چاہتے تھے۔"
اب بھی۔ اس نے دوبارہ ہاتھ بڑھا کر
چھوا : ”بالکل نیا ہے۔
شوکت “ وہ وہل کر بولی۔ پھر اس نے
نرمی سے اس کے بازو پر ہاتھ رکھا : "میں اسے کبھی نہیں ہوں گی شو کی۔"
اب بھی یہ بالکل نئی ہے۔" میں
اسے کبھی نہیں ہوں گی۔" وہ پھر بولی : ”شو کی یہ تمہارا سب سے
تمہارے پاس اور بھی ہیں۔ وہ یک لخت
چڑ کر بولا۔ کہاں ہیں؟ "جو ریاض نے تمہیں دی ہیں۔ اس نے کہا : ہرے رنگ کی سستی
"وہ " اچانک صدمے سے ایک
محلے کو اس کی پتلیاں پھیں پر اپنی جگہ پر آگئیں اور وہ اپنے آپ پر قابو پا کر
بولی:”وہ بھی گئیں۔"
جہاں اور سب گیا۔ وہ سامنے دیکھتا
رہا: ”ان کا کیا ملا ہو گا۔ اس
نے کہا۔
وہ
خاموش بیٹھی خفت سے ہونٹ کاٹتی رہی۔ "ہرے رنگ کی سستی کی۔ اس نے دو ہرایا۔
دوستی نہیں تھیں۔
الباستا آدی ہے۔ وہ بد مزگی سے ہا:
ہمارا دوست۔
شوکت !" وہ کانچ کی کی آنکھیں
سکیڑ کر نیچی آواز میں چینی۔
اس کے بعد دونوں خاموش بیٹھے رہے۔
اگلے ٹاپ پر وہ کھدار گڑیا کی طرح چلتی ہوئی اس کے پیچھے پیچھے سیڑھیاں اتر کر فٹ
پاتھ پر آگئی۔ دونوں ساتھ ساتھ چلتے رہے۔ جب وہ اپنے فلیٹ کی طرف مڑنے لگے تو وہ
رک کر
شوکت میں نوکری کرنا چاہتی
ہوں۔" کہاں؟ | جہاں بھی مل جائے۔"
مبارک ہو۔"
پتھر کا اندھا سا زینہ چڑھ کر دوسری
منزل پر اس نے اپنے فلیٹ کے دروازے کو پانی لگائی اور وہ اندر داخل ہوئے۔ بڑے سے
کرنے کا فرش اور دیواریں گی اور کھڑکیاں بند تھیں۔ دیوار کے ساتھ ایک میز پر چند
کتابیں پڑی تھیں اور ٹیبل لیمپ جل رہا تھا۔ فرش پر دو تین کھلونوں کے درمیان ایک
بچہ سو رہا تھا۔ اندر داخل ہوتے ہی وہ بھاگ کر گئی اور اس کے اوپر تھک گئی۔ بچے
کے میلے گالوں پر آنسوؤں کی لکیریں
بنی تھیں۔ اس نے اس کا ماتھا چھوا پھر گال پر ہاتھ پھیرا پر احتیاط سے بازوؤں میں
اٹھا کر اسے چوما اور دوسرے کمرے میں
لے گئی۔ وہ کمرے کے وسط میں کھڑا
خالی خالی آکتائی ہوئی نظروں سے ادھر ادھر دیکھتا رہا۔ پھر اس نے انتھائی آلکس کے
ساتھ وہیں کھڑے کھڑے اپنے کپڑے

0 Comments